گلگت بلتستان پانچواں صوبہ

گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کے معاملہ پر حکومت پاکستان نے سرتاج عزیز کی قیادت میں کمیٹی قائم کرکے اس پر غور شروع کر دیا ہے جس کا اجلاس 14 جنوری 2016ء کو ہوا۔ اس کی ضرورت اس لئے پڑی کہ چائنہ پاک اقتصادی راہداری کی سڑک نے گلگت کے علاقے سے شروع ہونا ہے اور چائنہ اربوں ڈالروں کی سرمایہ کاری کسی متنازعہ علاقے سے شروع نہیں کرنا چاہتا۔ بھارت کبھی بھی پاکستان کی خوشحالی دیکھ کر خوش نہیں ہوتا۔ جونہی CPEC کا معاہدہ ہوا ہے بھارت نے گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دیکر اس منصوبے کو ناقابل قبول قرار دے دیا ہے حالانکہ اسکو متنازعہ کہنا سراسر غلط ہے۔ کمزور موقف کی وجہ سے بھارت کا ردعمل اتنا سخت نہیں ہے جتنا وہ بعض معاملات میں لیتا ہے۔ دوسری طرف آزاد کشمیر کی حکومت اور کشمیریوں نے گلگت بلتستان کو آئینی درجہ دینے کی مخالفت شروع کر دی ہے اور کہا ہے کہ آئینی اور قانونی طور پر گلگت بلتستان کا علاقہ جموں اور کشمیر ریاست کا حصہ ہے اور اسکو ایک تاریخی حقیقت قرار دیا ہے۔ پی پی پی کی حکومت نے اس سوچ کو کشمیر کے موقف کو کمزور کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ایک تجویز میں یہ بھی کہا گیا کہ ان حالات میں گلگت بلتستان اور AJK کا عبوری انتظام کیا جائے اور بعدازاں پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں شامل کر دیا جائے جبکہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبے کا آئینی درجہ دینا ہمارا مطالبہ ہے اور ہم اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یٰسین ملک نے گلگت بلتستان کو صوبہ کا درجہ نہ دینے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اسکے بڑے بُرے اثرات مرتب ہونگے اور بھارت کو سیاسی اور اخلاقی طور پر مقبوضہ کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنے کا حق مل جائیگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ تاریخ عوام کی خواہش کا احترام کرنے سے مرتب ہوتی ہے نہ کہ سودے بازی اور علاقائی تبدیلیاں کرنے میں۔ اس طرح آزاد کشمیر اسمبلی نے متفقہ قرارداد میں حکومت پاکستان کی مقرر کردہ کمیٹی پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے بارے میں جلد بازی میں اور قانونی موشگافیوں کا سہارا لیکر کوئی فیصلہ نہ کرے جس سے مسئلہ کشمیر کو کوئی گزند پہنچے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے علاقے کی اصل حقیقت کیا ہے۔ 1948ء میں گلگت بلتستان کے عوام نے کشمیر کے راجہ سے جنگ کرکے اپنے خطے کا قبضہ چھڑایا تھا۔ اسکے بعد رضاکارانہ طور پر پاکستان کیساتھ شمولیت کا اعلان کیا اور اس وقت سے لیکر آج تک پاکستان کیساتھ دل و جان سے ہیں اور پاکستان کے تمام مفادات کا اس خطے میں تحفظ کرتے آرہے ہیں یہ علاقہ اپنی Strategic Value کے پیش نظر دنیا کے اہم ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ حکومت پاکستان نے اس خطے کے عوام کیلئے کوئی بھی نظام اور طریقہ کار کا فیصلہ کیا تو گلگت بلتستان کے لوگوں نے اسے دل و جان سے قبول کیا اور یہ سلسلہ 66 سال سے جاری ہے۔ آج تک کسی گلگت بلتستان کے لیڈر اور عوام نے پاکستان سے علیحدہ ہونے کا نہیں سوچا۔ اسکے بارڈرز افغانستان‘ وسط ایشیائ‘ چین اور بھارت کیساتھ لگتے ہیں۔ K-2 پہاڑ کی Base اس علاقے میں ہے۔ کارگل اور سیاچین بھی اسی علاقے میں ہیں جنکی خاطر جنگیں ہو چکی ہیں۔ یہ بدقسمتی ضرور ہے کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل جوکہ پہاڑوں کے اندر موجود ہیں انکو نکالنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس علاقہ کے لوگوں کی پاکستان سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1947ء میں جب پاکستان آزاد ہوا تو گلگت بلتستان کے علاقے کی کسی کو خبر تک نہ تھی۔ یہ علاقہ میجرمحمدحسین کی قیادت میں لڑ کر کشمیر کے راجہ سے چھڑایا گیا جس نے اس علاقے پر طاقت کے زور پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ اسکی قبر آج بھی گلگت بلتستان کے ایک قبرستان میں ہے۔ 1948ء میں میجر محمد حسین کے ایک رشتے دار محمد حنیفہ نے پہاڑوں کو چیر کر کراچی تک پیدل سفر کیا اور قائداعظم سے ملاقات کی اور اپنے قابض علاقے یعنی گلگت بلتستان کا پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا اس طرح یہ علاقہ پاکستان کا حصہ بنا۔ آج گلگت بلتستان میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ موجود ہے یعنی کہ عدلیہ کے تمام معاملات کے حل کیلئے آخری عدالت بھی وہاں موجود ہے۔ آج کل گلگت بلتستان میں انکم ٹیکس عائد کرنے کیخلاف ایک بہت بڑی تحریک چل رہی ہے اس تحریک میں تمام سیاسی پارٹیاں، تمام مکتبہ فکر اور ہمہ قسم کے کاروباری لوگ شامل ہیں جنہوں نے متحد ہو کر پہیہ جام ہڑتال کی کال دی جسکے نتیجے میں گلگت بلتستان کا تمام خطہ بشمول دیہات معطل ہو کر رہ گیا تھا۔ یہ اس خطے کی تاریخ کی کامیاب ترین ہڑتال تھی۔ ان لوگوں کا مطالبہ ہے کہ جب تک پاکستان کی اسمبلیوں اور سینٹ میں نمائندگی نہیں دی جاتی۔ الگ صوبہ تسلیم نہیں کیا جاتا‘ آئینی اختیارات اور حقوق نہیں ملتے اور اس خطے کو پاکستان کا حصہ تسلیم نہیں کیا جاتا انکم ٹیکس یا کوئی ٹیکس لگایا نہیں جا سکتا۔ اس خطے کے لوگوں نے پاکستان کی فوج اور بیوروکریسی میں بڑی نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں پنجاب اور مرکز میں بہت عرصہ تک اہم پوزیشن پر رہنے والے جی ایم سکندر جن کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے ایک زبردست افسر اور پنجاب میں بہت پاپولر ہیں۔ ایک پڑھے لکھے خطے کو کتنی دیر تک انکے حقوق کو محروم رکھا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کو پورا کرنے کیلئے حقیقت پسندانہ طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔ اس سے قبل کہ کوئی ایسا ردعمل جو اندر ہی اندر پک رہا ہو اور وہ کسی لاوہ یا منفی شکل میں سامنے آئے حکومت پاکستان کو ان مطالبات پر فوری توجہ دینی چاہئے جب لوگوں کے حقوق دبائے جاتے ہیں تو پھر لوگ اپنے راستے خود متعین کرتے ہیں اور یہ عمل کسی طرح بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔ کشمیریوں کا یہ مطالبہ کہ گلگت بلتستان اسکا حصہ رہا ہے غلط ہے کیونکہ حقیقت اسکے برعکس ہے۔ کشمیر کے راجہ نے گلگت بلتستان کے راجہ سے یہ علاقہ چھینا تھا اور اپنی حکمرانی کی تھی۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو حقوق دینے سے کشمیر کار کو کوئی نقصان پہنچے گا ناقابل فہم ہے۔ خنجراب کا علاقہ چائنہ اور گلگت بلتستان کے بارڈر پر واقع ہے اور کوریڈور کا آغاز اس علاقے سے ہونا ہے ان حالات میں ضروری تو یہ تھا کہ CPEC کے سلسلے میں بلائے جانیوالے اجلاس میں ان کو بلایا جاتا۔ گلگت بلتستان کے نمائندہ نہ ہونا ضرور تشویشناک بات ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں اس علاقے میں موجود ہیں۔ آج پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے تو اس سے پہلے پی پی پی کی حکومت تھی۔ انہی پارٹیوں کی پارلیمنٹ میں بھرپور نمائندگی ہے۔ آئین میں ترمیم دو تہائی اکثریت کے ساتھ ہی ممکن ہو سکتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سو فیصد اتفاق رائے سے آئین میں ترمیم کی جائے اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ قرار دیا جائے۔ جس سے اس علاقہ میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔