گلگت بلتستان کی متنازع حیثیت تسلیم کی جائے، سردار شوکت علی

لندن - یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے چیئرمین سردار شوکت علی نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان بننے والی اقتصادی راہداری کی شاہرائیں گلگت بلتستان سے بھی گزاریں گی ہمارا مطالبہ ہے کہ اس خطے کی متنازع حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔ وہ پارٹی کی لندن برانچ کے زیر اہتمام کشمیر پر سی پیک کے اثرات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔
سیمینار میں لندن کے علاوہ دیگر شہروں سے آئے پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ سردار شوکت نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں باقاعدہ معاہدہ کیا جائے کہ جب بھی مسئلہ کشمیر حل ہوا تو گلگت بلتستان کو آزاد جموں و کشمیر کا حصہ تسلیم کیا جائے گا، اور اس معاہدے میں آزاد کشمیر کی حکومت کو بھی شامل کیا جائے۔ سردار شوکت علی نے کہا کہ خطے میں پہلے ہی بے دریغ جنگلات کی کٹائی کے سبب ماحول پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اب اتنے بڑے تجارتی منصوبے کے قیام سے مزید منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں لیکن زیادہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ ماحول کی بہتری کے لئے ایک پیسہ بھی مختص نہیں کیا گیا ہے سالم سلام انصاری نے کہا کہ اس منصوبے کے ثمرات مقامی افراد کو بھی ملنے چاہئیں اور انہیں اس سلسلے میں آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
سیمینار سے لندن برانچ کے صدر آصف محمود، سینئر نائب صدر رازق شفیق، سیکرٹری انفارمیشن محمد ریاض، جنرل سیکرٹری عثمان بشیر، آرگنائزر عبدالصبور خان اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا اور مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا ہر صورت میں تحفظ کیا جائ