کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن کانفرنس کا اہتمام۔کانفرنس کا مقصد مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں کیلئے لوگوں کو ترغیب دینا تھا۔

چترال(گل حماد فاروقی) سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام ضلع بھر کے کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن ز کا کانفرنس منعقد ہوا جس میں ضلع بھر کے تمام تنظیمات، سول سائٹی، سرکاری افسران ، ضلعی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے ذمہ دار وں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری بلدیات سید جمال الدین شاہ مہمان حصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت ضلعی ناظم مغفرت شاہ کر رہے تھے۔کانفرنس کے موقع پر کمال عبد الجمیل ڈسٹرکٹ پروگرامنیجر کمیونٹی ڈرائیون لوکل ڈیویلپمنٹ CDLD سٹیج سیکرٹری کی خدمات انجام دے رہے تھے۔ مقررین نے کہا کہ سی ڈی ایل ڈی کی فنڈ یورپین یونین نے دیا تھا جو اسی لاکھ یور و تھا مگر وہ پشاور کے دفاتر ہی میں پڑے رہے اور استعمال ہی نہیں ہوئی تھی مگراس پروگرام کے تحت اس فنڈ سے استفادہ کرتے ہوئے گلی کوچی، بحال کاری، ہنگامی صورت حال سے نبرد آزما ہونے اور دیگر کئی ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ کانفرنس میں خواتین تنظیمات، ویلیج تنظیمات اور منتحب کونسلرز اور نمائندوں نے بھی شرکت کرتے ہوئے اظہار حیال کیا اور اسے نہایت سراہا جس سے ان کو گھر بیٹھے باعزت روزگار مل رہا ہے تو دوسری طرف اس پروگرام کے تحت چھوٹے چھوٹے ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے چیف ایگزیکٹیو شہزادہ مسعود الملک نے کہا کہ جب یہ پروگرام شرو ع ہوا تو دو سال تک فنانس ڈیپارٹمنٹ میں یہ پیسے پڑے رہے اور باہر نہیں آرہے تھے یورپین یونین نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو سال سے فنڈ استعمال نہیں ہورہی ہے۔ اس کے بعد یہ فنڈ لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں چلا گیا اور کافی پیچیدگیوں کے بعد اس فنڈ کو کمیونٹی کو پہنچادیا جس کے ذریعے بہت سارے کام ہورہے ہیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر منہاس الدین نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو خوش آمدید کہنا تھا مگر ان کی طبیعت ناساز تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس فنڈ سے ہر جگہہ SRSP کے ترقیاتی کاموں کے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر فنانس اینڈ پلاننگ حیات شاہ نے بھی اس پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے اسے چترال جیسے پسماندہ اور دور آفتادہ علاقے کی ترقی کیلئے نہایت ضروری ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان حصوصی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سید جمال الدین شاہ نے چترال کے عوام کا بہت تعریف کیا کہ ان میں رضاکارانہ خدمات ، ملنساری، مہمان نوازی، رواداری کا جذبہ پایا جاتا ہے اگر اپنی شرافت والی ثقافت کو برقرار رکھتے ہوئے باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھے تو چترال بہت جلد ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا کسی بھی ملک کی ترقی میں بہت بڑا کردار ہے، یہاں خواتین کی آبادی پچاس فی صد سے زیادہ ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ یہاں کے خواتین بھی ترقیاتی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ مہمانوں کو چترال کے روایات کے مطابق ٹوپی اور چوغہ پہنائے گئے۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سید جمال الدین شاہ نے کہا کہ سی ڈی ایل ڈی ایک ایسا پروگرام ہے جس اپنی ضروریات کی نشان دہی بھی کرتی ہے اور اس کیلئے فنڈ کا اہتمام کرکے اپنے طریقے سے اس کام کوبھی پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے اور اس میں اپنائیت کا عنصر شامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے تحت تمام پروگرام کو اپنا سمجھ کر مقامی لوگ نہایت حلوص سے کام کرتے ہیں ۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے کہا کہ مقامی لوگوں کو ان کی ضرورت کے مطابق ان ہی کی تجویز پر فنڈ دیا جاتا ہے اور وہ اپنے مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس سے استفادہ کرتے ہیں اور یوں علاقہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ چترال میں سستا بجلی بناکر اور گیس کی ڈپو لگا کر جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے بچائے تاکہ اس علاقے میں قدرتی آفات سے نقصان کا شرح کم سے کم کیا جاسکے۔اگر لوگوں کو بحال کاری سے پیسے بچ جائے تووہ اسے تعلیم اور دیگر ترقیاتی کاموں پر لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رواں پانی سے بارہ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ایک مقامی خاتون عائشہ بی بی کا کہنا ہے کہ سی ڈی ایل ڈی کا پروگرام بہت اچھا ہے جس سے ہمارے خواتین گھروں میں بیٹھ کر باعزت روزگار کرتی ہیں جس سے ان کو آمدنی بھی ہوتی ہے اور اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دے سکتی ہیں۔کانفرنس کے دوران بچیوں نے نہایت خوبصورت انداز میں حمد و نعت شریف پیش کی جبکہ ایک مقامی طالبہ نے انگریزی میں پریزنٹیشن دی۔جن کیلئے شہزادہ مسعو د الملک نے بیس ہزار روپے نقد انعام کا بھی اعلان کیا۔ پروگرام میں کثیر تعداد میں خواتین و حضرات نے شر کت کی جو بعد میں دعائیہ کلمات سے احتتام پذیر ہوا۔