عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کا آزادی ریلی۔ جشن آزادی کے سلسلے میں اے این پی کے کارکن بھی میدان میں اتر آئے۔

گل حماد فاروقی

چترال(گل حماد فاروقی) عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے ضلعی صدر الحاج عید الحسین کے سربراہی میں ایک آزادی ریلی نکالی جو اس کے مرکزی دفتر سے نکل کر عبد الولی خان بائی پاس روڈ سے گزرتے ہوئے شاہی بازار میں آئے اور پھر اتالیق چوک میں ایک جلسہ عام کی صورت احتیار کر گئی۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے رہنماؤں نے کہا کہ چترال میں چھ پارٹیوں کی حکومت ہیں مگر اس کے باوجود بھی عوام بجلی، پانی، سڑک اور بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں چترال میں بائس ارب روپے کے ترقیاتی کام ہوئے مگر افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان اور وزیر اعلےٰ پرویز خٹک ہمارے دور حکومت کے ترقیاتی کاموں پر دوبارہ اپنی تحتیاں اور بورڈ لگا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ میں پچیس کروڑ روپے کے کاموں کا ٹنڈر ہوا مگر صوبائی وزیر اعلےٰ نے اس منصوبے اور فنڈ کو اپنے حلقہ نیابت نوشہرہ کو لے گیا اور چترال اتنے بڑے منصوبے سے محروم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کا چترال میں ایک منتحب رکن اسمبلی یا ناظم، کونسلر تک نہیں ہے مگر اس کے باوجود اس کے وزیر اعلےٰ امیر حیدر خان ہوتی نے آٹھ مرتبہ چترال کا دورہ کرکے اربوں روپے کے منصوبے لائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین اور قائدین دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نیا پاکستان بنائیں گے مگر انہوں نے پرانے پاکستان کے نظام کا بھی حلیہ بگاڑ دیا اور اپنے صوبے میں بھی کچھ نہیں کیا۔ ضلعی صدر الحاج عید الحسین نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں چترال کے زیادہ تر ترقیاتی کام ہوئے۔ چترال یونیورسٹی، لاوی بجلی گھر، آبنوشی کی سکیمیں، دروش میں خواتین کالج، سڑکیں اور پلیں اس دور میں منظور ہوکر اس کیلئے فنڈ بھی آیا تھا مگر موجودہ وزیر اعلےٰ اور عمران خان ہمارے کاموں پر دوبارہ اپنے نام کے تحتی لگارہے ہیں جو نہایت قابل مذمت اور قابل افسوس بات ہے۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے عید الحسین نے کہا کہ اس ریلی کا بنیادی مقصد ایک تو پاکستان بننے کی خوشی میں جشن منانا تھا اور دوسرا دیگر سیاسی پارٹیوں کو بھی اپنے طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ جلسہ سے منیجر گل آغا، عید الحسین، پروفیسر توفیق جان، کرامت وغیرہ نے اظہار حیال کیا جو بعد میں دعائیہ کلمات کے ساتھ پر امن طور پر منتشر ہوا۔

گل حماد فاروقی چترال سے