گلگت بلتستان میں خزاں کے رنگ اور زندگی کا پہیہ جام

علی احمد جان

علی احمد جان گلگت بلتستان کے ا یک نامور لکھاری ہیں جو علاقے کے مسائل کو خوش اسلوبی سے اجاگر کرتے رہیتے ہیں۔

نومبر کے مہینے میں گلگت اور گرد و نواح میں خزاں کے رنگ اپنے جوبن پر ہوتے ہیں، دریا کے پار کنوداس سے نظارہ کریں تو چنار باغ کےآگ کے شعلوں کی مانند کھڑے چنار کے درخت پروین شاکر کے مصرعہ ”مرے بدن کو مِلا ہے چنار کا موسم “ کی تشریح دکھائی دیتے ہیں۔ خوبانی کے پتوں کی سرخی، چنار کے پتوں کے شعلے اور دریاؤں اور جھیلوں کے کنارے لگے بید اور سپیدے کے درختوں کے سونا بکھیرتے طلائی رنگ زمین پر رنگوں کا ایک اور ہی حسین امتزاج ہوتا ہے۔ ان دنوں رندویا ہنزہ نگر کے ڈھلوانوں پر بکھرے سرخ، سنہرے اور سبز رنگ کے پہاڑ تجریدی آرٹ کے قدرتی نمونےلگتے ہیں۔ غذر کے دریا کے نیلگوں پانی میں جب کنارے لگے درختوں کے رنگ اتر آتے ہیں تو دیکھنے والے کو کھلی آنکھو ں ایسا نظارہ دیکھنے کا اعتبار نہیں ہوتا ہے۔

قدرت کا یہ رنگین حسن یہاں کے باسیوں کے لئے کچھ اور معنی رکھتا ہےکیونکہ یہ سرخ، سنہرے اور سبز رنگ آنے والی سخت سردیوں میں انسانوں اور جانوروں کی زندگی کی ضمانت بھی ہیں۔ جگہ جگہ ان گرتےرنگین پتوں کو جمع کرتی عورتوں اور بچوں کے چہرے دیکھ کر ان کی مشکلات کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ اپنے جسم و روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے گھروں کے اندر دھواں اگلتی بخاریوں کے گرد بیٹھ کر زمین پر رنگ بکھیرنے والے درختوں کی لکڑیاں جلا جلا کر موسم بہار کا انتظار کرتے ہیں۔ نقطہ انجماد کے درجہ حرارت کی سردی کے آنے سے پہلے ہی اس کا بندوبست کرنا یہاں کی زندگی کا معمول ہے۔

پندرہ نومبر سے پندرہ مارچ تک سرکاری ملازمین کو روزانہ تیس سیر ہینزم سوختنی (جلانے والی لکڑی) کا راشن ملتا ہے۔ سرکاری ملازم کو بلحاظ عہدہ صرف ایک موسم میں درمیانے قد کے دو سے چار درخت کاٹ کر جلانے کے پیسے سرکار سے ملتے ہیں۔ عام لوگوں کو اپنا بندوبست خود کرنا ہوتا ہے جو بعض علاقوں میں اتنا آسان نہیں۔ گانچے اور غذر کے سرحدی علاقوں میں جلانے والی لکڑی اشیائے ضروریہ میں سب سے نایاب ہوتی ہے جس کے حصول کے لئے لوگ اپنی سال بھر کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں۔ زیادہ دور نہیں سکردو کے پاس کچورہ جھیل سے تھوڑا آگے شگر تھنگ گاؤں میں صنوبر کی لکڑی کے بڑے بڑے ٹال نظر آتے ہیں جو کسی کی موت واقع ہونے کی صورت میں زمین پر جمی برف کو پگھلاکر قبر کھودنے کے کام آتے ہیں۔

یہاں سردیاں زندگی کا امتحان ہوتی ہیں جب ابشاریں سوکھ جاتی ہیں ندی، نالے، جھیلیں اور پانی کےنل سب جم جاتے ہیں۔ زمین اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ سنگ و خشت مقید ہو جاتے ہیں۔ جاڑے کے اس بے رحم موسم میں لوگ نہ صرف اپنا بوجھ اٹھاتے ہیں بلکہ جانوروں کے پیٹ پھرنے، بیماری سے بچانے اور ان کی جگہ کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری بھی آن پڑتی ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیے اوروں کی آنکھ کو محظوظ کیے رنگین اشجار کے وہ پتے نعمت اولیٰ سے کم نہیں ہوتے ہیں۔ مگر اس وقت ان کے مصائب سے بے خبر ہم کہیں اوران موسموں اور رنگوں کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں کہ ہنزہ کے چیری بلوسم کا بہترین وقت کونسا ہوگا کہ بہار کے رنگ دیکھ سکیں۔

 

بہارکی کونپلوں اور شگوفوں کا انتظار آپ اور مجھے ہی نہیں ان پہاڑوں میں کڑاکے کی سردیاں گزارنے والوں کو بھی ہے۔ وہ نوروز کے جشن کی تیاری اس لئے بھی کرتے ہیں کہ اس دن سورج اپنے گھر پہنچ جائے گا تو ان کی مشکلات کم ہو جائیں گی۔ ندی نالوں، ابشاروں کی برف پگھل جائے گی، پانی دینے والے نل کھل جائیں گے، زمین سے ہریالی اگے گی تو ان کے جانور باہر نکل کر اپنا پیٹ بھریں گے۔ ان لوگوں کو مارچ کی اکیس تاریخ یاد نہیں مگر سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے مقام کو دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ نوروز میں اب کتنے دن رہ گئے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کی سب سے پہلے سفید شگوفے دینے والے بادام، سیب، اور چیری، پھر گلابی رنگوں والے خوبانی اور آڑو کی کلیاں کب ان کے لئے ایک بار پھر زندگی کا پیغام لے کرآیئنگی۔ سورج کے سفر، کھلتی کلیوں اور جڑتے پتوں کے ساتھ اپنی زندگی جوڑے ہوئے لوگوں اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں کیونکہ رنگ و نورسب کو اچھے لگتے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کی سترویں سالگرہ پر اس سال نومبر کا خزاں اور زیادہ تکلیف دہ ہے کیونکہ گلگت بلتستان میں حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے ٹیکس کے خلاف شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال ہے۔ گلگت بلتستان کے لئے پیام آزادی لے کر آنے والا نومبرکا مہینہ یہاں کے باسیوں کی زندگیوں میں بھی بہت اہم ہے۔ اس مہینے میں لوگ یہاں پڑنے والی سخت اور لمبی سردیوں کے لئے ایندھن، خوراک اور کپڑوں کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس مہینے میں ہی برف باری سے پہلے قمری، حمزہ گون اور شمشال جیسے علاقوں میں رہنے والے اگر پیشگی بندوبست نہ کر سکے تو سردیاں ان کے لئے قیامت خیز ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر گلگت اور سکردو میں دکانیں بند ہوں اور ٹرانسپورٹ کی ہڑتال میں یہاں سے چھٹی پر جانے والا سپاہی، یہاں کام کرنے والا مزدور اور تجارت کے لئے آیا دوکاندار اپنے بچوں کے لئے، دوائی، تیل، جوتے، گرم سویٹر، جیکٹ اور کمبل نہیں لے جا سکے گا تو ٹیکس اور بجٹ کی موشگافیوں سے دور سرحدی علاقوں میں صنوبر کی لکڑی کے ٹال اس سال بھی کئی ضعیف، بیمار اور بچوں کے کام آئیں گے۔

دنیا بھر میں کم ترقی یافتہ علاقوں میں حکومتیں سبسڈی اور ٹیکسوں میں رعایت دیتی ہیں۔ ایندھن، خوراک، ادویات، تعلیم اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان میں کوئی صنعت نہیں، لوگوں کا گزارا مال مویشی اور کھیتی باڑی پر ہے۔ جب مال مویشی، آلو، سبزی اور پھل فروٹ پر ٹیکس کے نام پر لگان لگا یا جائے گا تو غربت میں اور اضافہ ہوگا۔ آج بھی پورے گلگت بلتستان میں ثانوی صحت کا کوئی ہسپتال نہیں۔ راولپنڈی، اسلام آباد، ایبٹ آباداور دیگر شہروں میں ہسپتالوں کے باہر اپنی مخصوص ٹوپی پہنے گلگت بلتستان کے لوگوں کا ایک جم غفیر ہر وقت نظر آتا ہے۔ اس پورے علاقے میں اچھے معیار تعلیم کے حامل تعلیمی اداروں کی کمی یا غیر موجود گی کی وجہ سے صرف اسلام آباد اور راوالپنڈی میں ہزاروں بچے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ یہاں آج تک بجلی فراہم نہ کی جاسکی کیونکہ گلگت بلتستان میں سماجی شعبے کے وسائل سے جتنی بجلی پیدا کی گئی ہے وہ یہاں کی ضرورت کا بیس فی صد بھی پورا نہیں کر سکتی۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کے سینے سے گزرنے والے سی پیک کے تحت اگر لاہور میں زرد و سرخ بسیں اور ٹرینیں چل سکتی ہیں، پشاور، راولپنڈی، ملتان اور کراچی میں میٹرو کی بسیں چل سکتی ہیں اور ان پر سفر کرنے کرنے والوں کو اسی فیصد سرکار سبسڈی دے سکتی ہے، ہر صوبے میں صنعتی شہر بسائے جا سکتے ہیں، پورے ملک کو بجلی دی جاسکتی ہے تو یہاں کے لوگوں کو ٹیکس کی رعایت بھی دی جا سکتی ہے۔ اگر اس علاقے کے لوگوں کو پاکستان کے ساتھ وابستگی کے سترویں سالگرہ پر کوئی خوشی نہیں دی جا سکتی ہے تو کم از کم ٹیکسوں کا اضافی بوجھ بھی نہ ڈالا جائے اور نومبر کے مہینے میں ہڑتال اور پہیہ جام سےدور دراز سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کو اور مشکل نہ بنایا جائے۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کو بہار کے شگوفوں اور خزان کے رنگوں کا نظارہ کرنے اور ان کی باتیں کرنے والوں سے بھی ایک گلہ ہے کہ وہ ان کی مشکلات کو یاد نہیں کرتے۔ موٹر کاروں کے جلوس کی واہ واہ تو ہفتوں تک ہوتی ہے، ایک خاتون موٹر سائیکل پر یہاں سے گزرتی سب کو نظر آجاتی ہے، مستنصر حسین تارڑ کی یاک سرائے، کے ٹو کہانی اور ہنزہ داستان کی چوتھی دفعہ چھپائی ہوتی ہے لیکن گلگت بلتستان میں کئی دنوں سے بازار بند ہیں زندگی کی گاڑی رکی ہوئی ہے مگر کوئی دیکھ نہیں پاتا اور کسی کو سنائی نہیں دیتا۔