وزیرستان، بلوچستان اور گلگت بلتستان

سلیم صا فی

سلیم صافی ایک پاکستانی صحافی اور کالم نگار ہیں۔سلیم صافی نے پی ٹی وی،خیبر ٹی وی پر بہت سے پروگرامز کئے اور اس وقت جیو نیوز پر پروگرام جرگہ کے میزبان ہیں

شمالی اور جنوبی وزیرستان سے متعلق میرے ٹی وی پروگرام اور احسان اللہ احسان کے ساتھ انٹرویو الحمدللہ میری توقع سے زیادہ موضوع بحث بن گئے ہیں۔ جن لوگوں نے داد دی ہے، ستائش کی ہے اور رہنمائی کی ہے میں ان کا بے اتنہامشکور ہوں۔ ان سے بڑھ کر ان کا مشکور ہوں جنہوں نے مثبت تنقید کی ہے۔ جہاں تک گالیاںاور طعنے دینے والوں کا تعلق ہے تو اس کی پہلے کوئی پروا کی ہے اور نہ اب کروں گا۔ ان سب کے جواب میں حسب سابق وہی عرض ہے کہ حاسدین کے لئے یہ سزا کافی ہے کہ وہ اپنی حسد کی آگ میں جلتے رہیں تاہم چونکہ میری صحافت کا ایک مشن پاکستان کے محروم علاقوں کی محرومیوں کو دور کرنے کے عمل میں اپنا مقدور بھر حصہ ڈالنا بھی ہے اور چونکہ میرے آبائو اجداد خود بھی مرد کوہستانی تھے اس لئے میںوہاں کے ستم رسیدہ لوگوں کی خاطر سفروزیرستان سے متعلق وضاحتیں دیناضروری سمجھتا ہوں۔ وہ یہ کہ جب محترمہ آصفہ زرداری کی والدہ کے دست راست جنرل (ر) نصیراللہ بابر افغان طالبان کو اپنے بچے قرار دے رہے تھے تو الحمدللہ میں ایک معمولی رپورٹر کی حیثیت سے پاکستان کی افغان پالیسی پر شدید تنقید کررہا تھا جس کی وجہ سے طالبان نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ رحیم اللہ یوسفزئی اور روزنامہ ڈان کے اسماعیل خان گواہ ہیں کہ میں معجزانہ طور پر ان کی قید سے زندہ نکلا۔پھر جب محترمہ بے نظیر بھٹو اور رحمان ملک جنرل پرویز مشرف کے ساتھ این آر او کی ڈیل میں مصروف تھے اور جنر ل مشرف کے ڈبل گیم کے نتیجے میں قبائلی علاقے فساد کا مرکز بنتے جارہے تھے تو میں ان چند صحافیوں میں شامل تھا جو اس کے خلاف نہ صرف اخبار اور ٹی وی پر آواز اٹھاتے رہے بلکہ اس وقت کے گورنر جنرل (ر) افتخار حسین شاہ سے پوچھا جاسکتا ہے کہ خلوتوں میں بھی صدائے احتجاج بلند کرتے رہے اور اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی۔ پھر جب اے این پی اور پیپلز پارٹی کی قیادت سوات کے طالبان کے قدموں میں بیٹھ کر معاہدے کررہے تھی تو میں ان لوگوں میں شامل تھا جو اس کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔ جہاں تک شمالی وزیرستان کا تعلق ہے تو ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجئے کہ اس آپریشن کے آغاز میں آئی ڈی پیز کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر سب سے پہلے آواز اٹھانے کی سعادت مجھے ملی۔(جون اور جولائی 2014کے کالم ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں ) جتنے کالم اس موضوع پر میں نے لکھے، اگر کسی اور نے لکھے ہوں تو دکھا دیا جائے۔ ٹی وی اسکرین پر ان کی فریادجتنی میں نے کی، اگر کسی اور نے کی ہو تو مطلع کیا جائے۔ میں نے کبھی آپریشن ضرب عضب کی اس طرح مدح سرائی نہیں کی جس طرح کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، اے این پی اور پی ٹی آئی کی قیادت نے کی۔ اگر کسی لیڈر نے گزشتہ تین سالوں میں وزیرستان جانے کی کوشش کی ہو یا پھر اس کے لئے کسی فورم پر مطالبہ کیا ہو تو بتادیا جائے لیکن میں وہ صحافی تھا جو درجنوں مرتبہ ٹی وی اسکرین پر اور اپنے کالم میں عرض کرتا رہا کہ مجھے قبائلی علاقوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ صرف یہ نہیں بلکہ میں قبائلی صحافیوں کے وفد کو پرویز رشید صاحب کے پاس لے آیا اور جب انہوں نے فریاد کی تو پرویز رشید صاحب نے کہا کہ اس معاملے میں وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ عسکری قیادت کی تبدیلی کے ساتھ پالیسی بھی تبدیل ہوئی اور جب میں نے کور کمانڈر پشاور اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے وزیرستان کی اجازت طلب کی تو انہوں نے حیرت انگیز طور پر فوراً ہاں کردی۔ پہلے انہوں نے ایک ماہ قبل بذریعہ ہیلی کاپٹر جانے کا پروگرام ترتیب دیا تھا لیکن میں نے بذریعہ سڑک جانے کی خواہش ظاہر کی۔جس کی وجہ سے یہ پروگرام ایک ماہ موخر ہوا۔ تین دن کے سفر میں جو کچھ ممکن تھا میں نے کرنے کی کوشش کی۔ ایک دن تو مسلسل 22گھنٹے سفر کرتا رہا۔ اس دوران جہاں تک ممکن ہوا میں نے سویلینز تک رسائی کی بھی کوشش کی۔ پولیٹکل ایجنٹ شمالی وزیرستان کے ساتھ انٹرویو کیا۔ شمالی وزیرستان میں پی ٹی آئی کا ایک عہدیدار ہاتھ آیا تو ان سے بات کی اور جنوبی وزیرستان کے شکئی میں اے این پی کا رہنما ہاتھ آیا تو ان سے بات کی۔ میرے پروگرام کا ایک ہدف یہ بھی تھا کہ میں لوگوں کو بتاسکوں کہ وزیرستان میں زندگی لوٹ آئی ہے تاکہ باقی پاکستان سے لوگوں کا آنا جانا شروع ہو۔ اسی وجہ سے دونوں جگہ جی اوسیز اور کورکمانڈر پشاور سے بھی درخواست کی کہ وہ نہ صرف ہر طرح کے میڈیا کو آنے دیں بلکہ سیاسی رہنمائوں کے لئے بھی وزیرستان کھول دیں۔ میں نے اپنے کالم اور ٹی وی پروگراموں کی روح یہی رکھی کہ جلد ازجلد آرمی سے معاملات سویلین ادارے اپنے کنٹرول میں لیں تاکہ عوامی مشکلات بھی کم ہوں اور پولیسنگ کی وجہ سے قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں منفی جذبات نہ ابھریں۔ جہاں تک آئی ڈی پیز کا تعلق ہے تو میں بار بار اپنے کالموں اور جرگہ میں ذکر کر چکاہوں کہ جتنے جنوبی وزیرستان کے محسود آئی ڈی پیز خوار ہوئے اور جتنے شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز دربدر رہے، اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جب مجھے قبائلی علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں تھی تو اس وقت میں نے آئی ڈی پیز کی حالت زار سامنے لانے کے لئے وائس آف امریکہ کے اس کلپ کو دو مرتبہ اپنے پروگرام میں دکھایا لیکن اگر کسی قوم پرست، دینی یا سیاسی رہنمانے یا پھروزیرستان کے ایم این ایز اور سینیٹرز نے اس ایشو کو کبھی پارلیمنٹ میں اٹھایا ہو تو مجھے بھی آگاہ کیا جائے۔ پنجابی وزیراعظم کے دست راست مگر پختونوں کے ٹھیکیدار قوم پرست رہنما کے فدائین جتنی چاہیں مجھے گالیاں دے دیں لیکن کبھی اپنے قائد سے بھی پوچھ لیں کہ انہوں نے پچھلے چار سالوں میں وزیرستان کے آئی ڈی پیز کا یہ معاملہ پارلیمنٹ میں کیوں نہیں اٹھایا اور کبھی ان کے انچارج جنر ل عبدالقادر بلوچ سے اس معاملے پر باز پرس کیوں نہیں کی یاپھر یہ کہ کیا کبھی ایک مرتبہ وزیرستان یا پھر اس کے بنوں میں آئی ڈی پیز کو دیکھنے کی زحمت گوارا کی۔ آئی ڈی پیز کی واپسی کے لئے فنڈز وفاقی حکومت نے دینے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر فوج سے کوئی کوتاہی ہورہی ہے تو اس معاملے کو گورنراور عبدالقادر بلوچ نے ان کے ساتھ اٹھانا ہے۔ یا پھر سیاسی لیڈروں نے فوج اور متعلقہ اداروں سے بات کرنی ہے۔ میرے پروگرام میں آئی ڈی پیز کیمپ کا دورہ شامل نہیں تھا لیکن میں وہاں گیا اور ان کی حالت زار سے جس قدر ممکن تھا قوم کو آگاہ کیا۔ میں نے ڈانڈے درپہ خیل کے آئی ڈی پیز کا ایشو فوجی حکام کے ساتھ بھی چھیڑا اور ہر جگہ یہی گزارش کرتا رہا کہ فوج کو جلد ازجلد پولیسنگ کی ڈیوٹی سے الگ ہونا چاہئے۔ظاہر ہے کہ ایک کالم میں یا پھر ایک ٹی وی پروگرام میں سب چیزوں کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔ میں نے تبدیلی کا ذکر اس حوالے سے نہیں کیا تھا کہ وزیرستان سماجی اور انتظامی حوالوں سے جنت بن گیا ہے۔ تبدیلی اس حوالے سے آئی ہے کہ جہاں عسکریت پسندوں کا طوطی بول رہا تھا، وہاں آج ہر جگہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کا کنٹرول ہے اور جہاں سرکاری عمارتوں میں عسکریت پسندوں کی تربیت گاہیں تھیں آج وہاں چار آرمی پبلک اسکول اور ایک کیڈٹ کالج بن گیا ہے۔ جہاں عسکریت پسندوں کے غاروں کے لئے کھدائی ہوتی تھی، آج وہاں کرم تنگی ڈیم کی تعمیر کے لئے کھدائی ہورہی ہے۔ جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے تو انسانی آزادیوں کے حوالے سے آج بھی نہ صرف وزیرستان بلکہ پورا فاٹا دوزخ ہے اور جب تک خیبرپختونوا کے ساتھ ضم ہو کر یہ علاقے آئین اور قانون کے دائرے میں نہیں آتے ۔ یہاں کے لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق نہیں مل سکتے اور یہی وجہ ہے کہ میں دامے درمے سخنے اس کے لئے کوشش کر رہا ہوں۔ وزیرستان کے سفر کے مشاہدات کو میں اختصار کے ساتھ بیان کرنا چاہوں تو وہ یوں ہیں کہ:

اس لحاظ سے تبدیلی آگئی ہے کہ عسکریت پسندوں کی جگہ کنٹرول مکمل طور پر فوج کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ شوال کے سوا باقی دونوں وزیرستان کلیئرکردئیے گئے ہیں لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فوج جلد ازجلد سویلین معاملات سے الگ ہوجائے اور اختیارات سول انتظامیہ یا پھر منتخب نمائندوں کو منتقل کئے جائیں۔ یہ صورت حال زیادہ عرصہ رہی تو لوگوں میں احساس محکومی جنم لے گا جس کے نتیجے میں سب کچھ ریورس ہوسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے خاطر خواہ فنڈز قبائلی علاقوں کو منتقل ہونے چاہئیںاور فاٹا کو فوری طور پر خیبرپختونخوا میں ضم کردینا چاہئے تاکہ یہ کام سہل اور آسان ہوجائے۔فوج نے سڑکوں اور اسکولوں اور اسپتالوں یعنی انفراسٹرکچر کی تعمیر کا کام تو دوست ممالک کے تعاون سے بڑی حد تک کرلیا لیکن گھروں کی تعمیر اور آئی ڈی پیز کے روزگار کی بحالی کا کام ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوا۔ اس کے لئے خاطر خواہ فنڈز کی ضرورت ہے جو دستیاب نہیں۔ اگر گھر دوبارہ تعمیر نہ ہوئے اور روزگار بحال نہ ہو ا تو سب تدبیریں الٹ ہوسکتی ہیں۔اسی طرح اگر اسکولوں اور اسپتالوں کیلئے اچھے اساتذہ اور ڈاکٹروں کا انتظام نہ ہوا تو کسی بھی وقت یہ انفراسٹرکچر ایک دوسری طرح کی تباہی سے دوچار ہوسکتا ہے۔

وفاقی حکومت کی عدم توجہی کا یہ عالم ہے کہ شمالی وزیرستان کی بجلی کی ضرورت ستر میگاواٹ ہے لیکن صرف پانچ چھ میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ فوج نے سرحد کی نگرانی کا کام منظم انداز میں شروع کردیا ہے لیکن غلام خان اور انگور اڈا کی بندش سے لوگوں کے روزگار کا یہ ذریعہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ وفاقی حکومت کی عدم توجہی کا یہ عالم ہے کہ انگور اڈا کے بارڈر پر آج تک امیگریشن اور کسٹم کا دفتر ہے اور نہ وہاں پر کوئی عملہ موجود ہے۔ وہاں کے فوجی اپنے طریقے سے آنے جانے والوں کا ریکارڈ بناتے ہیں۔اور آخر میں سی پیک کے حوالے سے ایک گزارش۔وہ یہ کہ میاں نوازشریف جس قدر چاہیںاس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کریں لیکن میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس حوالے سے وہ یوں مجرم تصور ہوں گے کہ انہوں نے انتہائی اسٹرٹیجک اور گیم چینجر منصوبے کو اپنی سیاست کی خاطر متنازع بنادیا۔ چھوٹے صوبوں کی شکایات دور کرنے کی بجائے انہوں نے صرف پرویز خٹک کو ساز باز کے ذریعے رام کرنے کو ترجیح دی۔شروع میں چین جاتے ہوئے دوسرے وزرائے اعلیٰ کو نظرانداز کرکے صرف اپنے بھائی کو ساتھ لے جاتے تھے۔ا ب کی بار چین جاتے ہوئے پرویز خٹک اور مراد علی شاہ کو تو ساتھ لے گئے لیکن گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو نظرانداز کیا۔ حالانکہ سی پیک پر کسی بھی دوسرے پاکستانی سے زیادہ حق گلگت بلتستان اور بلوچستان کے عوام کا ہے۔ میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر اس طرح کے دوروں میں وہ اپنے ساتھ جناب اختر مینگل اور گوادر سے ان کی جماعت کے منتخب نمائندوں کو بھی ساتھ لے جائیں تو کونسی قیامت آجائے گی۔ لیکن وہ مسلم لیگ (ن) ہی کیا کہ جو مجبوراً دودھ دے کر بھی اس میں کوئی مینگنی نہ ڈالے۔